لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو مذاق میں طلاق دینے کے شوہر کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے طلاق کو مؤثر قرار دے دیا، عدالت نے یونین کونسل کی جانب سے طلاق مؤثر ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی برقرار رکھا اور قرار دیا کہ شوہر اپنی قانونی غلطی یا تاخیری حربوں کا فائدہ اٹھا کر طلاق کے عمل کو نہیں روک سکتا۔
جسٹس انوار حسین نے طلاق سے متعلق کیس کا 13 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں طلاق کے قانونی اثرات اور فریقین کے حقوق سے متعلق اہم نکات بیان کیے گئے ہیں۔
شوہر کا مؤقف
راحیل احمد نامی شخص نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق مذاق میں دی تھی، تاہم عدالت نے یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا اور یونین کونسل کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔
عدالت کے مطابق شوہر نے ای میل کے ذریعے اپنی اہلیہ کو طلاق بھیجی تھی، جس کے بعد خاتون نے اپنے جہیز کے سامان اور دیگر مطالبات کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا۔
یونین کونسل سے رجوع
فیصلے میں بتایا گیا کہ شوہر نے طلاق کی اطلاع یونین کونسل کو نہیں دی، جس کے بعد بیوی نے خود یونین کونسل کو اس حوالے سے آگاہ کیا،یونین کونسل نے شوہر راحیل احمد کے پیش نہ ہونے پر طلاق کو مؤثر قرار دے دیا اور اس حوالے سے سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کسی خاتون کو اس کی ازدواجی حیثیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں نہیں رکھا جا سکتا،اگر شوہر طلاق کی اطلاع یونین کونسل کو نہیں دیتا تو بیوی خود یونین کونسل کو آگاہ کرسکتی ہے،عدالت نے واضح کیا کہ شوہر کے تاخیری حربوں کے باعث خاتون کو اپنی ازدواجی حیثیت کے حوالے سے غیر یقینی میں رکھنا قابل قبول نہیں۔
قانونی غلطی کا فائدہ نہیں
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر اپنی قانونی غلطی کا فائدہ اٹھا کر طلاق کے عمل کو روک نہیں سکتا، فیملی کورٹ بھی طلاق ہونے کا تعین کرنے سے انکار نہیں کرسکتی اور اسے قانون کے مطابق معاملے کو آگے بڑھانا ہوگا۔
فیملی کورٹ کا معاملہ
فیصلے کے مطابق خاتون نے جہیز کے سامان اور دیگر مطالبات کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا، فیملی کورٹ نے دیگر معاملات پر فیصلہ کرتے ہوئے طلاق کے مؤثر ہونے کے معاملے پر یونین کونسل سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی،بعد ازاں یونین کونسل نے کارروائی مکمل کرتے ہوئے شوہر کے پیش نہ ہونے کی صورت میں طلاق کو مؤثر قرار دے دیا۔
قانون میں ترمیم کی سفارش
لاہور ہائیکورٹ نے طلاق کے معاملے میں پیدا ہونے والی قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر حکومت کو متعلقہ قانون میں ترمیم کے لیے غور کرنے کی سفارش بھی کردی ہے،عدالت نے فیصلے کی نقل پنجاب کی تمام فیملی کورٹس کو رہنمائی کے لیے بھجوانے کا حکم بھی دیا ہے۔
عدالتی اصول واضح
فیصلے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ طلاق کے معاملے میں فریقین کو غیر یقینی کیفیت میں نہیں رکھا جا سکتا، عدالت نے یونین کونسل کی جانب سے طلاق مؤثر قرار دینے کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی درخواست خارج کردی۔
لاہور ہائیکورٹ کے اس تفصیلی فیصلے کو طلاق کے قانونی معاملات میں اہم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے پنجاب کی فیملی کورٹس کو فیصلے کی نقل بھجوانے کا مقصد بھی ایسے معاملات میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔