سیاست میں جب دعوے بلند ہوں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس نکلیں، تو عوام کی آنکھیں کھلنے میں دیر نہیں لگتی، دعوے اور تحریکیں جب عوامی فلاح کے بجائے ذاتی مقاصد کی بھینٹ چڑھ جائیں، تو ان کا انجام ناکامی کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔
جنوبی پنجاب کے ضلع لودھراں کے شہریوں کی گفتگو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب عام آدمی سیاسی ڈراموں اور پس پردہ ڈیل کی حقیقت کو بخوبی سمجھ چکا ہے ، آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے حوالے سے شہریوں نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور اس انتشاری لانگ مارچ کو بری طرح مسترد کر دیا ہے ۔
ذاتی مفادات اور احتجاج کی حقیقت
شہریوں کا ماننا ہے کہ اس لانگ مارچ کو عوامی فلاح کے لیے نہیں بلکہ صرف ذاتی مطلب اور مفادات کے حصول کے لیے نکالا گیا تھا، ان کاکہنا ہے کہ ایک شخص کو باہر نکالنے کے لیے اتنے بڑے قافلے کی شکل میں پنجاب کی طرف پیش قدمی کی گئی، جس کو باشعور طبقے نے مسترد کر دیا ہے ، ان کاکہنا ہے کہ یہ لیڈر اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس طرح کی سیاست نہیں کرتے، لیکن یہاں مقصد صرف مخصوص ایجنڈے کی تکمیل تھا۔
سہیل آفریدی کی مبینہ “ڈیل” اور یو ٹرن کی سیاست
عوام کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے عہدے پر بیٹھے سہیل آفریدی مبینہ طور پر ایک پسِ پردہ ڈیل کے تحت اس منصب پر براجمان ہیں، شہریوں کے مطابق جب ان کا یہ ذاتی مطلب پورا ہو جائے گا، تو یہ واپس اپنی کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے اور ہمیشہ کی طرح یو ٹرن لے لیں گے۔
عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک صوبے کی طرف سے دوسرے صوبے پر دباؤ ڈالنا یا یلغار کرنے کا یہ طریقہ کار کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔
حکومتی رٹ کا دفاع
شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور پاک فوج انتہائی مضبوط ہیں اور وہ کسی کو بھی پنجاب کے امن کو خراب کرنے یا توڑ پھوڑ کی اجازت نہیں دیں گی ، عوام نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ صوبے کو کسی بھی انتشار کا شکار نہیں ہونے دیں گے اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہی معاملات کو حل کیا جانا چاہیے۔
شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب عوام اتنے بھولے نہیں رہے کہ انہیں ہر بار نئے نعروں اور جھوٹے جذباتی فریب میں الجھا دیا جائے ، پسِ پردہ ڈیل کرنے اور پھر میدان میں آ کر مظلومیت کا ناٹک رچانے کی سیاست اب پرانی ہو چکی ہے۔
لودھراں کے باشعور شہریوں کے مطابق لانگ مارچ کی ناکامی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب آپ کا مقصد عوام کی خدمت کے بجائے صرف اقتدار کی رسہ کشی ، قیدی کی رہائی اور بلیک میلنگ ہو، تو عوام آپ کے ساتھ نہیں چلتے۔
لانگ مارچ کا یہ فلاپ شو اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ سیاسی مصلحتوں اور ہوائی قلعوں کی عمر اب بہت مختصر ہو چکی ہے ، شہریوں کی یہ گفتگو اس زوال پذیر سیاست پر ایک طمانچہ ہے جو عوام کو بے وقوف سمجھتی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ پی ٹی آئی سیاست دان یہ سمجھ لیں کہ اب کھوکھلے نعرے نہیں بلکہ عملی کارکردگی اور سچی نیت ہی سیاست کا مستقبل طے کرے گی۔