دنیا بھر میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کا رجحان سامنے آ رہا ہے جس سے مستقبل میں آبادی کے تناسب اور سماجی و معاشی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد ممالک میں نوجوان نسل یا تو کم بچے پیدا کرنے کو ترجیح دے رہی ہے یا والدین بننے کے فیصلے کو مستقبل پر چھوڑ رہی ہے۔
اس تبدیلی کے پیچھے کئی معاشی اور سماجی عوامل کارفرما ہیں، مہنگائی میں اضافہ، رہائش کے اخراجات، بچوں کی تعلیم و تربیت پر اٹھنے والے بھاری اخراجات اور ملازمتوں کے غیر یقینی مستقبل نے نوجوانوں کے لیے خاندان شروع کرنا ایک مشکل فیصلہ بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ طویل اوقاتِ کار، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور کام کے بڑھتے دباؤ نے بھی خاندانی زندگی کو متاثر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق شادی کی عمر میں اضافہ، خواتین کی تعلیم اور ملازمت کے وسیع تر مواقع اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں بھی شرحِ پیدائش میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہیں ، بہت سے افراد اپنے کیریئر، ذاتی آزادی اور بہتر معیارِ زندگی کو ترجیح دیتے ہوئے والدین بننے کا فیصلہ مؤخر کر رہے ہیں جبکہ بعض جوڑے زیادہ بچوں کے بجائے چھوٹے خاندان کو ترجیح دیتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان طویل عرصے تک برقرار رہا تو متعدد ممالک کو آبادی کی عمر میں اضافے اور نوجوان افرادی قوت کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کے نتیجے میں پنشن کے نظام، صحت کی سہولتوں اور سماجی تحفظ کے اداروں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔
آبادی کے ماہرین کے مطابق بدلتے ہوئے حالات میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کے لیے معاشی تحفظ، مناسب رہائش، ملازمت اور بچوں کی پرورش کے بہتر مواقع فراہم کریں۔