گورنر خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کا سہارا لے کر الیکشن جیتنے کی کوشش کریں گے تو یہی ہوگا، دہشتگردی کے معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور اب فل اسٹاپ لگانے کا وقت آگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی امن و امان کی صورتحال وفاق کے ساتھ شیئر کردی ہے، جبکہ ایمرجنسی اور گورنر راج سمیت مختلف آئینی آپشنز پر فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔ وفاق کو رپورٹ
گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے وفاق کو آگاہ کردیا گیا ہے، انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی امن و امان سے متعلق تفصیلی رپورٹ ممکنہ طور پر آج رات وزیراعظم کو بھیج دی جائے گی۔
گورنر نے کہا کہ جب دہشتگردوں کا سہارا لے کر الیکشن جیتنے کی کوشش کی جائے گی تو حالات ایسے ہی ہوں گے، دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے اور اس معاملے پر فیصلہ کن اقدامات کرنے کا وقت آگیا ہے۔ ایمرجنسی یا گورنر راج؟
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے، گورنر راج بھی لگ سکتا ہے اور دونوں اقدامات بیک وقت بھی کیے جاسکتے ہیں، ان کے مطابق ایک علاقے میں ایمرجنسی جبکہ دوسرے علاقے میں گورنر راج نافذ کرنے کا آپشن بھی موجود ہے،انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نافذ کرنے یا آرٹیکل 234 کے تحت اقدام کرنے کا فیصلہ وفاقی حکومت کو کرنا ہے۔ پی ٹی آئی نے دیر کردی
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کو بھیجنے میں دیر کردی، ان کا کہنا تھا کہ آئینی آپشنز میں سے کس کا انتخاب کیا جائے گا، یہ وفاق کا فیصلہ ہوگا۔ کل فیصلہ واضح ہوجائے گا۔
گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد ایوان سے منظوری لینے کے لیے 10 دن کا وقت ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ کل وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صورتحال سے متعلق فیصلہ واضح ہوجائے گا۔
صوبے میں امن و امان کی صورتحال، دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور ممکنہ آئینی آپشنز کے حوالے سے وفاقی حکومت کے آئندہ فیصلے کو اہم قرار دیا جارہا ہے۔