حکومت کو ٹف ٹائم نہ دینے پر پی ٹی آئی اور جے یو آئی رہنما ایک دوسرے سے سخت نالاں ہیں اور صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی مولانا سے ملاقات کے بعد صورتحال واضح ہو چکی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف اور جمیعتِ علمائے اسلام کے رہنما ایک دوسرے سے حکومت کو ٹف ٹائم نہ دینے پر سخت نالاں ہیں اور اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی مولانا فضل الرحمان کے مابین ملاقات پر دعوی کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے دبے الفاظ میں حکومت کو تسلیم کرلیاہے۔ مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی خطاب کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنما سخت ناراض ہیں اور مولانا کے بیان پر اسد قیصر ، بیرسٹر گوہر سمیت دیگر پارٹی رہنما سخت نالاں ہیں۔ زرائع کے مطابق پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس میں بھی مولانا فضل الرحمان کے خطاب پر بات چیت کی گئی اور اسد قیصر نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی اپنی جماعت ہے ، اپنے فیصلے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد جلسہ ، جو پیغام دینا چاہتے تھے وہ حکومت تک پہنچ گیا، بیرسٹر سیف
انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ آئین کے تحفظ کی بات کی ہے اور کرتے رہیں گے اور پی ٹی آئی نے کئی سینئر رہنماوں کو مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بات کرنے سے منع کردیا ہے۔شاہد خٹک نے کہا کہ ہمیں پارٹی نے سخت ہدایات دی ہے کہ مولانا کے حوالے سے کوئی بات نہ کرے اور پی ٹی آئی رہنماوں نے مولانا فضل الرحمان کی وفاداری پر بھی سوالات اٹھا دئے ہیں، ہماایوں مہمند نے کہا کہ جے یو آئی اگر قانون ممکنہ قانون سازی حکومت کیساتھ کھڑے ہوگئے تو اس کا مطلب ہوگا یہ حکومت کیساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور اپوزیشن میں بیٹھے سب منافقت کررہے ہیں، حکومت کے ہر بل پر ووٹ دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد: روٹ کی خلاف ورزی،26 نمبر چونگی کے مقام پر پی ٹی آئی کارکنان کا پولیس پر پتھراؤ، ایف سی طلب
زرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی پہلے دن سے مولانا کے ساتھ بات چیت کے مخالف تھے اور علی امین گنڈاپور مختلف مقامات پر مولانا سے مذاکرات اور بات کی چیت مخالفت کرتے رہے ہیں ۔ زرائع کا کہنا ہے کہ شیرافضل مروت، شاہد خٹک، شاندانہ گلزار، زرتاج گل سمیت دیگر پہلے دن سے ہی مولانا سے بات چیت کے خلاف تھے اور دونوں جماعتوں کی ناراضگی کے باعث مذاکراتی کمیٹیوں کا دوسرا اجلاس بھی نہ ہوسکا۔ مولانا فضل الرحمان پہلے سے ہی اسدقیصر کے بھائی کے روئئیےسے ناراص تھےاورمولانا فضل الرحمان کا پی ٹی آئی اسمبلیوں سے استعفے کے متعلق بیان واپس لینے پر بھی ناراض ہوئے تھے۔مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی وفد سے اس بات کی شکایت بھی کی تھی۔

