اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت نے تھانہ آئی نائن کے مقدمے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر سپرا نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کا کیس دیگر ملزمان سے الگ کر دیا۔ عدالت نے دیگر غیرحاضر ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ غیرحاضر ملزمان کے وکلا کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ عدالت نے حاضری معافی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ضمانتی مچلکے منسوخ کر دیے۔
دیگر ملزمان میں فیصل جاوید، عمر تنویر، راجا خرم نواز، راجا راشد اور واثق قیوم شامل ہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی۔
گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا کہ مذاکرات بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہائی سے شروع ہوں گے اور آگے بڑھیں گے۔ اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد علی امین گنڈاپور نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ بانی کو رہا کروانے سمیت تمام مطالبات منوا کر ہی دم لیں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ پی ٹی آئی کا نعرہ ’اب نہیں تو کب ہم نہیں تو کون‘ کو ثابت کرنے کا وقت آ چکا ہے، قوم نے فیصلہ کرنا ہے کہ ظلم کے نظام کا مقابلہ کریں گے یا انصاف لیں گے۔انہوں نے کہا کہ بانی ہماری اور ہماری نسلوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ان کو مایوس نہیں کریں گے، پی ٹی آئی کا نظریہ ہمارا جنون ہے اور جنون مرتا نہیں بڑھتا ہے۔