سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم نے بجلی صارفین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب صارف اپنی پسند کی کمپنی سے بجلی خرید سکے گا۔ ابتدا میں یہ سہولت ایک میگاواٹ تک کے صارفین کو دی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کا اجلاس چیئرمین محمد ادریس کی زیر صدارت ہوا، جس میں سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم، پاور ڈویژن کے حکام اور کمیٹی ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کراچی میں بجلی کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور پاور سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے اجلاس میں کہا کہ “کراچی ایک بڑا شہر ہے مگر یہاں کے الیکٹرک کی اجارہ داری ہے، جس کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”
اس موقع پر سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم نے بتایا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں اوپن مارکیٹ نظام متعارف کروا رہی ہے، جس کے تحت صارف اپنی پسند کی کمپنی سے بجلی خرید سکے گا۔ یہ سہولت ابتدائی طور پر ایک میگاواٹ تک کے صارفین کو جنوری 2026 سے فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کچھ ڈسکوز کے نقصانات نیپرا کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہیں، تاہم ان نقصانات کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالا جاتا بلکہ اس سے گردشی قرض بڑھتا ہے، جسے وفاقی حکومت اپنے بجٹ سے ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر فخر عالم کے مطابق، گزشتہ تین برسوں کے دوران گردشی قرض میں اضافہ نہیں ہونے دیا گیا اور حکومت اب اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2024 میں بجلی کے نقصانات 600 ارب روپے تھے جو 2025 میں کم ہو کر 397 ارب روپے رہ گئے ہیں۔
سیکرٹری پاور نے مزید بتایا کہ نقصانات میں مزید کمی کے لیے اصلاحات جاری ہیں اور تقسیم کار کمپنیوں کو اسٹاف کی کمی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے پوری کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے اضافی بلنگ سے متعلق عوامی شکایات بھی اٹھائیں، جس پر سیکرٹری پاور نے بتایا کہ صارفین کی سہولت کے لیے ایک اسمارٹ ایپ متعارف کرائی گئی ہے تاکہ بلنگ سے متعلق شکایات فوری طور پر درج اور حل کی جا سکیں۔