وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت شدید خراب ہو گئی ہے اور انہیں اسپتال میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
سینئیر سیاستدان مسلم لیگ نون کے اہم رہنما سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ انہیں شدید علالت کے بعد وینٹیلیٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔اللہ کریم انہیں صحت کاملہ عطاء فرمائے ۔ pic.twitter.com/2u4qmlHFZF
طارق فضل چوہدری کے مطابق عرفان صدیقی کو جمعہ کی رات اچانک طبیعت بگڑنے کے باعث اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے فوری طور پر انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں داخل کر کے وینٹی لیٹر سپورٹ پر رکھا۔
طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں سینیٹر عرفان صدیقی کی ناساز طبیعت کی تصدیق کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’سینیٹر عرفان صدیقی کی حالت تشویشناک ہے، اللہ تعالیٰ انہیں صحت کاملہ عطا فرمائے۔‘
یہ پیش رفت پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے اجلاس سے کچھ ہی دیر قبل سامنے آئی، جہاں حکومت 27 ویں آئینی ترمیم کے بل پر بحث شروع کرنے جا رہی تھی۔ عرفان صدیقی کی عدم موجودگی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے کیونکہ بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے اور مسلم لیگ (ن) کے لیے ایوان میں ہر ووٹ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین اور ایوانِ بالا میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر ہیں۔ وہ ایک سینیئر کالم نگار، ادیب اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2019 میں عرفان صدیقی کو اسلام آباد میں کرایہ داری قانون کے تحت گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا تھا، جب ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنا مکان کرایہ پر دیتے وقت پولیس کو اطلاع نہیں دی۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا اور اس کیس نے اس وقت حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان شدید سیاسی بحث کو جنم دیا تھا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف نے بھی عرفان صدیقی کی علالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے۔
دوسری جانب، مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر سینیٹر عرفان صدیقی کی جلد صحت یابی کے لیے دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔