سعودی عرب کی وزارتِ ہیومن ریسورسز اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ غیر قانونی گھریلو ملازمین کے قیام کو قانونی حیثیت دینے کے لیے دی جانے والی مہلت میں 6 ماہ کی توسیع کر دی گئی ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت کی جانب سے دی گئی نئی مہلت آج سے شروع ہو کر آئندہ چھ ماہ تک جاری رہے گی۔ اس فیصلے کا مقصد گھریلو ملازمین اور ان کے مالکان کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ غیر حاضر یا غیر قانونی حیثیت رکھنے والے ملازمین کے معاملات کو “مساند پلیٹ فارم” کے ذریعے خودکار نظام کے تحت درست کر سکیں۔ وزارت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف کام کے ماحول میں بہتری لانے کے لیے کیا گیا ہے بلکہ اس سے تمام فریقوں کے حقوق کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
وزارتِ ہیومن ریسورسز نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب میں افرادی قوت کے شعبے کی مسلسل ترقی اور تنظیم کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ فیصلہ معاہداتی تعلقات میں بہتری لانے اور لیبر مارکیٹ کے نظم و نسق کو مؤثر بنانے کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
وزارت کے مطابق، اس اقدام کے تحت وہ گھریلو ملازمین جن کے بارے میں غیر حاضری کی رپورٹ درج ہو چکی ہے یا جن کے اقاموں کی مدت ختم ہو چکی ہے اور جو ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، وہ اب اپنے حالات کو درست کر کے اپنی خدمات نئے مالکان کو منتقل کر سکتے ہیں۔ تاہم، اس کے لیے تمام قانونی تقاضوں اور ضروری کارروائیوں کی تکمیل لازمی ہوگی۔
مزید وضاحت میں بتایا گیا کہ یہ تمام کارروائیاں “مساند پلیٹ فارم” کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔ وزارت کے مطابق یہ سہولت صرف ان گھریلو ملازمین کے لیے دستیاب ہوگی جو اس نئے اعلان کے بعد غیر حاضر نہیں ہوئے۔
سعودی حکومت کے اس اقدام کو افرادی قوت کے شعبے میں اصلاحات اور غیر منظم ملازمت کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔