غیر مصدقہ خبروں کی بھرمار اور من گھڑت رپورٹنگ کے باعث بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر کڑی تنقید کی زد میں آ گیا ہے۔ حالیہ دہلی دھماکے کے دوران کی گئی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ نے بھارت کے فالس فلیگ بیانیہ کا پول کھول دیا۔
میڈیا ریٹنگ کی لالچ میں بھارتی نیوز رپورٹرز نے نہ صرف غیر مصدقہ اطلاعات پھیلائیں بلکہ جائے وقوعہ سے اہم شواہد بھی اٹھا لیے، جس پر بھارتی عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
مودی سرکار کے جھوٹے بیانیے کو رد کرتے ہوئے بھارتی عوام نے کہا کہ ایسے نازک وقت میں جب لوگ پہلے ہی خوف و ہراس میں مبتلا تھے، بھارتی چینلز نے ایک نہیں بلکہ دو دھماکوں کی خبر پھیلا کر مزید افواہیں جنم دیں۔ عوام کا کہنا تھا کہ کسی سرکاری ادارے، پولیس یا قابلِ اعتماد ذرائع نے اب تک اصل صورتحال کے بارے میں کوئی واضح انکشاف نہیں کیا ہے۔
بھارتی شہری ڈاکٹر دیوندر سنگھ نے بھی نااہل مودی حکومت کی سازش اور فالس فلیگ آپریشن کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ ’’دہلی اور بہار والو! اگر کوئی شخص جلسے میں دہلی دھماکے کے نام پر ووٹ مانگے تو سمجھ جانا کہ دھماکہ اسی نے کرایا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگر دہلی دھماکے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تو اس کے تانے بانے براہِ راست حکومت سے جڑتے نظر آئیں گے۔
ڈاکٹر دیوندر سنگھ نے واضح کیا کہ دہلی دھماکہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کرایا گیا واقعہ ہے۔ بھارتی شہریوں نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیاسی ریلیوں میں ایسے عناصر پر نظر رکھیں جو دھماکے کے نام پر ووٹ مانگنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ سیاسی جلسوں پر گہری نظر رکھیں اور دیکھیں کہ یہ عناصر دھماکے کو کس طرح کسی اور سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بھارت کے “گودی میڈیا” نے ماضی میں بھی آپریشن سندور کے دوران من گھڑت اور بے بنیاد رپورٹنگ کے باعث دنیا بھر میں جگ ہنسائی کرائی تھی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی میڈیا اب خبروں کا نہیں بلکہ جھوٹ اور مضحکہ خیز بیانیوں کا تھیٹر بن چکا ہے۔
بھارتی عوام کا کہنا ہے کہ وہ اب سفاک مودی کے مکروہ عزائم اور اوچھے ہتھکنڈوں کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں، اور جھوٹے پروپیگنڈے کے باوجود سچ کو چھپایا نہیں جا سکتا ہے۔