پاکستان کے وزیرِ دولت برائے کرپٹو اور بلاک چین، بلال بن ثاقب نے وزیراعظم کے خصوصی معاون (SAPM) کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
بلال بن ثاقب نے یہ فیصلہ Rules of Business 1973 کے مطابق کیا، جس کے تحت کوئی شخص SAPM نہیں بن سکتا اگر وہ کسی قانونی یا ریگولیٹری اتھارٹی کا عہدہ رکھتا ہو۔ بلال بن ثاقب اس وقت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے موجودہ چیئرمین بھی ہیں، جس وجہ سے انہوں نے خصوصی معاون کے عہدے سے دستبرداری اختیار کی۔
بلال بن ثاقب نے مئی 2025 میں SAPM اور وزیرِ دولت کے طور پر پاکستان کی قومی بلاک چین حکمت عملی کی قیادت سنبھالی تھی اور کرپٹو کرنسی کی ترقی اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان کرپٹو کونسل بھی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کرپٹو اور بلاک چین کے شعبے کی ترقی کے لیے سرگرم رہی۔
پاکستان میں 50 ملین سے زائد کرپٹو صارفین موجود ہیں اور کرپٹو کا سالانہ تجارتی حجم 300 ارب ڈالر سے زائد ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا کے ٹاپ 5 ممالک میں کرپٹو کے استعمال میں شامل ہے۔
بلال بن ثاقب لندن کے مقیم کاروباری اور سماجی رہنما ہیں۔ انہیں کنگ چارلس III، سابقہ ملکہ الزبتھ اور میئر آف لندن کی جانب سے سراہا جا چکا ہے۔ 2023 میں انہیں COVID-19 کے دوران انسانی خدمات کے لیے MBE ایوارڈ بھی دیا گیا۔ انہوں نے One Million Meals کے تحت NHS اسٹاف اور پسماندہ طبقوں کے لیے 100,000 سے زائد کھانے فراہم کیے۔
تعلیمی لحاظ سے بلال بن ثاقب نے لندن اسکول آف اکنامکس (LSE) سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے پاکستان میں پانی کے بحران کے حل کے لیے Tayaba سوشل انٹرپرائز قائم کیا، جس میں H2O Wheel متعارف کروایا گیا تاکہ پسماندہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
بلال بن ثاقب کے استعفیٰ سے واضح ہوا کہ ملکی قوانین اور قواعد و ضوابط کی پابندی کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جائے گی، جبکہ وہ بلاک چین اور کرپٹو کے شعبے میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔