پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پرتشدد، کراچی یونین آف جرنلسٹس ،ایم کیو ایم کی مذمت، وزیرداخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا،تفصیلات طلب

پی ٹی آئی کارکنوں کا صحافیوں پرتشدد، کراچی یونین آف جرنلسٹس ،ایم کیو ایم کی مذمت، وزیرداخلہ سندھ نے نوٹس لے لیا،تفصیلات طلب

کراچی میں باغِ جناح اور مزار قائد کے اطراف پیش آنے والے واقعات میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا نمائندوں پر تشدد کے واقعات نے شہر کی سیاسی فضا کو کشیدہ کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک نجی نیوز چینل کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، جبکہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو بھی ہراساں کیا گیا، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اس سنگین واقعے کا وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی، اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے پولیس کو واضح ہدایات جاری کیں کہ واقعے میں ملوث شرپسند عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے ترجمان نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا ورکرز پر حملہ کراچی کے عوام کا رویہ نہیں بلکہ یہ شرپسند عناصر کی کارستانی ہے۔ ترجمان نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو صحافت کی آزادی پر حملے کی جرات نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں :باغ جناح میں پی ٹی آئی کارکنان کاپولیس پر پتھرائو ،دو اہلکار زخمی

اسی طرح کراچی یونین آف جرنلسٹس نے بھی صحافیوں پر تشدد کے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یونین کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا اداروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے  پی ٹی آئی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کے طرز عمل کا فوری نوٹس لے۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور نے بھی باغِ جناح میں صحافیوں پر تشدد اور میڈیا ہاؤسز کی گاڑیوں اور آلات کی توڑ پھوڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات نہ صرف آزادیٔ صحافت پر حملہ ہیں بلکہ شہر کے امن و امان کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ صحافی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔

editor

Related Articles