جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما فرخ خان کھوکھر کو گزشتہ رات اسلام آباد میں مختصر طور پر حراست میں لیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں فوری طور پر رہا کر دیا گیا۔
رہائی کے بعد فرخ خان کھوکھر نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ کھنہ پل پر ان کے لیے خصوصی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ناکے پر گاڑی روکی، مکمل تعاون کیا اور پولیس کو تلاشی کی اجازت دی۔ ان کے مطابق ناکہ صرف انہیں روکنے کے لیے لگایا گیا تھا کیونکہ ان کے وہاں سے گزرنے کے بعد ناکہ ختم کر دیا گیا اور دوبارہ قائم نہیں کیا گیا۔
فرخ کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ ناکے پر موجود اہلکاروں نے ان سے رشوت طلب کی، تاہم انہوں نے رشوت دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی اہلکار رشوت مانگے، اس کی ویڈیو بنا کر سامنے لائی جائے کیونکہ اعلیٰ افسران ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں اور اب وقت بدل چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی ستار بندی اور آٹھ تاریخ کو ہونے والے کنونشن میں شرکت نہ کرنے کا کہا، جبکہ گاڑی پر لگے پارٹی جھنڈے اتارنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اس پر انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ویڈیو بنا سکتے تھے لیکن ملک کی بدنامی کے پیش نظر ایسا نہیں کیا۔
JUI leader and TikTok star Farrukh Khan Khokhar has arrested by Islamabad Police. Islamabad Police had set up a special checkpoint targeting JUI leader Farrukh Khan Khokhar, JUI sources say pic.twitter.com/CDfsEwPSHG
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) January 13, 2026

