لاہور میں بسنت کے موقع پر فروری کے پہلے ہفتے کے دوران شہر میں چار دن کی تعطیلات دیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جس سے شہریوں کو ایک ساتھ لانگ ویک اینڈ مل سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے انتظامیہ کی سطح پر مشاورت جاری ہے اور جلد حتمی فیصلہ متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 5 فروری بروز جمعرات یومِ کشمیر کی سرکاری چھٹی پہلے ہی طے شدہ ہے، جبکہ اب انتظامیہ کی جانب سے جمعہ کے روز بھی چھٹی دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات پہلے سے موجود ہیں، جس کے باعث لاہور کے شہریوں کو مسلسل چار دن کی چھٹیاں ملنے کا امکان ہے۔
حکام کے مطابق ممکنہ تعطیلات کا مقصد بسنت کے موقع کو یادگار بنانے کے ساتھ ساتھ شہر میں امن و امان اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تعطیلات کی صورت میں دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہنے سے شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم ہو گا، جبکہ سڑکوں پر موٹرسائیکلوں کی تعداد میں بھی واضح کمی متوقع ہے، جس سے حادثات کے خطرات کم کیے جا سکیں گے۔
انتظامیہ کے مطابق بسنت کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں اور کھلی جگہوں پر موجود ہوتی ہے، اس لیے ٹریفک اور نقل و حرکت کو محدود رکھنا حفاظتی نقطہ نظر سے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اضافی چھٹیوں پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ لاہور میں اس سال بسنت 6، 7 اور 8 فروری کو منائی جائے گی۔ شہریوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تعطیلات کے حوالے سے جلد حتمی اعلان کیا جائے تاکہ وہ اپنی مصروفیات اور چھٹیوں کی پیشگی منصوبہ بندی کر سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لے کر جلد فیصلہ سامنے لایا جائے گا۔