فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ملک بھر میں مختلف کاروباری اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر ایف بی آر کے ٹیکس نظام سے منسلک ہوں۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری شفافیت اور ٹیکس ریکارڈ کو مضبوط بنانا ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق ہوٹل، گیسٹ ہاؤس، میرج ہالز، کلبز، انٹر سٹی ٹرانسپورٹ، کوریئر اور کارگو سروسز، بیوٹی پارلرز، سلمنگ سنٹرز، مساج سنٹرز، ہیئر ٹرانسپلانٹ اور ڈینٹل کلینکس سمیت دیگر پرائیویٹ کلینکس لازمی طور پر ایف بی آر کے نظام سے رجسٹر ہوں گے۔
اس کے علاوہ لیبارٹریز، جانوروں کے ڈاکٹرز، ڈائیگناسٹک سنٹرز، ایکسرے سنٹرز، پرائیویٹ اسپتال، ہیلتھ کلبز، سوئمنگ پولز، فٹنس کلبز، جمخانے اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس کی فرمز بھی اس نوٹیفیکیشن کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ٹیکس نیٹ سے باہر ہزاروں ڈاکٹرز ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے
نوٹیفیکیشن میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مینوفیکچررز، ہول سیلرز، امپورٹرز اور ماہانہ فیس والے اسکول، کالجز، ٹریننگ سنٹرز اور یونیورسٹیز کو بھی ایف بی آر کے نظام میں رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ شق 33 کے تحت ٹیکس نظام سے منسلک ہونا تمام کاروباروں کے لیے بنیادی شرط ہوگی، اور پوائنٹ آف سیلز (POS) مشین کے ساتھ ساتھ شق 33 بی کے تحت کاروبار کو ایک ماہ کی CCTV ویڈیو ایف بی آر کے لیے فراہم کرنا بھی لازمی ہوگی۔
ایف بی آر نے کاروباری اداروں اور انتظامیہ کو سختی سے تاکید کی ہے کہ کسی بھی قسم کی تاخیر یا کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی۔ لاہور میں ٹرانسپورٹرز کو 15 دن کی اضافی مہلت دی گئی ہے تاکہ لین ڈسپلن یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ملک بھر میں ٹیکس نظام کو مربوط کرنے اور شفافیت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ کاروباری سرگرمیاں مؤثر انداز میں ریکارڈ ہوں اور ٹیکس ادائیگی کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔