ایران پر جاری اقتصادی پابندیوں اور مسلسل مالی دباؤ کے باعث ایرانی ریال کو عالمی سطح پر سنگین مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حیران کن طور پر پاکستان کی اوپن کرنسی مارکیٹوں میں اس کرنسی نے غیر معمولی بہتری دکھائی ہے، جس نے ڈیلرز اور سرمایہ کاروں دونوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف کرنسی ایکسچینج ذرائع کا بتانا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران کراچی، لاہور اور سرحدی تجارتی علاقوں میں ایرانی ریال کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی مقامی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
مارکیٹ ڈیٹا کے مطابق اس وقت ایک پاکستانی روپیہ تقریباً 4940.71 ایرانی ریال کے برابر ہے، جبکہ 10 پاکستانی روپے کی مالیت تقریباً 49,407 ایرانی ریال کے قریب پہنچ چکی ہے۔
کرنسی ڈیلرز کے مطابق ماضی میں یہی مقدار کم نرخ پر دستیاب تھی، تاہم اب قیمتوں میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، مثال کے طور پر 10 ملین ایرانی ریال جو پہلے چند ہزار پاکستانی روپے میں با آسانی تبدیل ہو جاتے تھے، اب اوپن مارکیٹ میں ان کی قیمت تقریباً 10,000 پاکستانی روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ایک واضح اور غیر معمولی اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اچانک اضافہ کی ایک بڑی وجہ سرحدی تجارت میں سرگرمی، غیر رسمی لین دین میں اضافہ اور محدود سپلائی کے باوجود بڑھتی ہوئی طلب ہے، خاص طور پر ایران اور پاکستان کے بارڈر ایریاز میں کاروباری سرگرمیوں کے باعث اس کرنسی کی گردش میں تیزی آئی ہے، جس نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
گزشتہ روز ایک رپورٹ میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ECAP) کے چیئرمین ملک بوستان نے بتایا تھا کہ گزشتہ دو روز کے دوران پاکستانی خریداروں نے مجموعی طور پر 60 ارب ایرانی ریال خریدے ہیں جن کی مالیت تقریباً 25 کروڑ روپے بنتی ہے، ان کے مطابق تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد ایرانی کرنسی کی طلب دوبارہ بڑھنا شروع ہوئی ہے اور زیادہ تر خریدار کم اور متوسط آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
دوسری جانب کچھ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایرانی ریال کی عالمی سطح پر کمزور حیثیت کے باوجود مقامی مارکیٹ میں اس کی قیمت کا اتار چڑھاؤ زیادہ تر غیر رسمی ایکسچینج ریٹس اور مقامی طلب و رسد کے اصولوں سے متاثر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس میں اچانک تیزی یا کمی دیکھنے میں آتی ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایرانی ریال کی یہ غیر متوقع حرکت مقامی کرنسی مارکیٹ کے لیے ایک اہم رجحان کی نشاندہی کر رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہے۔