خیبرپختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں، پی ٹی آئی قیادت کی اسلام آباد مارچ پر توجہ کیوں؟

خیبرپختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں، پی ٹی آئی قیادت کی اسلام آباد مارچ پر توجہ کیوں؟

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی سنگین صورتحال کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے فیصلے نے صوبائی حکومت کی ترجیحات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات میں بھی انسداد دہشت گردی کے معاملے پر ڈیڈلاک برقرار رہا اور اسی دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بنیادی اختلاف خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور صوبائی حکومت کے کردار پر سامنے آیا۔ حکومتی فریق کا مؤقف تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور سکیورٹی اداروں کو صوبائی حکومت کی مکمل معاونت درکار ہے، تاہم اس معاملے پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہوسکی۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خیبرپختونخوا مسلسل دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ حالیہ کوہاٹ حملے میں 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد شہید ہوئے۔ اس حملے کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شہداء کے اہلخانہ سے ملاقات بھی کی تھی۔

دہشت گردی کے مسلسل واقعات نے پولیس، سکیورٹی فورسز، سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں، بازاروں اور عام شہریوں کے تحفظ کو بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت کی اولین ترجیح دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون ہونی چاہیے یا اسلام آباد کی جانب سیاسی مارچ؟

حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کے دوران بھی یہی معاملہ نمایاں رہا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ضروری انتظامی اقدامات اور انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پر اختلاف کے باعث بات چیت آگے نہ بڑھ سکی۔ دوسری جانب سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کو جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا حکومت کے دہشت گردی سے نمٹنے کے کردار پر مسلسل سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ستمبر میں الزام عائد کیا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کو سہولت فراہم کر رہی ہے اور پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی کی مبینہ حمایت کا بھی الزام لگایا تھا۔ یہ سیاسی الزامات ہیں جنہیں پی ٹی آئی مسترد کرسکتی ہے اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:11 ماہ بعد بڑا فیصلہ، نیپرا نے بجلی صارفین کے دل جیت لیے

اسی طرح وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے اطلاعات خیبرپختونخوا اختیار ولی خان نے حالیہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی کے  روابط کے بارے میں دعوے کیے اور ذاکر اللہ کی بعض پی ٹی آئی رہنماؤں کے ساتھ تصاویر کا حوالہ دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے ساتھ ایک تقریب میں نظر آنے والے ایک نوجوان کے مبینہ خاندانی روابط کو بھی سوال کے طور پر اٹھایا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں موجود نہیں، تاہم یہ معاملہ سیاسی سطح پر زیر بحث ہے۔

 اب ایک اہم سیاسی سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر صوبائی حکومت خود دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو سنگین قرار دے رہی ہے اور مزید جانی نقصان روکنے کی ضرورت تسلیم کرتی ہے تو ایسے وقت میں وفاقی حکومت کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے معاملے پر اتفاقِ رائے کیوں نہیں ہوسکا؟

مزید سوال یہ بھی ہے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی حکومت اسلام آباد کی سیاسی کشمکش کو ترجیح دے تو اس کے نتیجے میں صوبے کے امن و امان، پولیس اور سکیورٹی اداروں پر کیا اثر پڑے گا؟ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اہلکاروں کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مکمل تعاون کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

خیبرپختونخوا میں گزشتہ برسوں کے دوران پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قربانیاں دی ہیں۔ اسکولوں، مساجد، بازاروں، پولیس تنصیبات اور دیگر عوامی مقامات پر حملوں نے صوبے کے عوام کو مسلسل عدم تحفظ سے دوچار کیا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے۔

مذاکرات کے خاتمے اور لانگ مارچ کے آغاز نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے کہ کیا سیاسی مطالبات کے لیے احتجاج اور انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کو ایک دوسرے سے الگ رکھا جاسکتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی ابہام یا تاخیر قابل قبول نہیں، جبکہ پی ٹی آئی لانگ مارچ کو اپنا سیاسی اور آئینی حق قرار دے رہی ہے۔

یوں خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اصل سوال صرف لانگ مارچ کا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی سیاسی قیادت، وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے مل کر امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کس حد تک مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔

Qaisar Mirza
editor

Related Articles