کینیڈین انٹیلی جنس نے بھارت کو کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت اور ریاستی دھونس کا دوسرا بڑا ذریعہ قرار دے دیا ہے۔ یہ سنسنی خیز رپورٹ کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے متوقع دورہ بھارت سے عین قبل سامنے آئی ہے، جس نے سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس) کی تازہ ترین تشخیصی رپورٹ نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان بظاہر بہتر ہوتے سفارتی تعلقات پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کے بعد بھارت کینیڈا میں سب سے زیادہ سرگرم ریاستی فریق بن چکا ہے۔
بھارتی حکومت اپنے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے کینیڈا کی حکومتی مشینری، سیاسی عمل اور کمیونٹی گروپس میں دراندازی کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اپنے مخصوص مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔
ٹرانس نیشنل ریپریشن اور خالصتان تحریک
رپورٹ میں سب سے تشویشناک پہلو ’ٹرانس نیشنل ریپریشن‘ یعنی سرحدوں کے پار ریاستی جبر کو قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت سرحد پار مقیم اپنے سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ناقدین کو خاموش کرانے کے لیے دباؤ، نگرانی اور دھمکیوں کا سہارا لے رہی ہے۔
ان جبری حربوں میں خاندان کے افراد کو ہراساں کرنا، سفر یا ویزا پر پابندیاں عائد کرنا اور منظم معلوماتی مہمات چلانا شامل ہے۔ ان کارروائیوں کا بنیادی ہدف کینیڈا میں خالصتان تحریک کے حامی ہیں۔
تاہم کینیڈین انٹیلی جنس نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ خالصتان کے قیام کی پرامن حمایت کوئی انتہا پسندی نہیں اور کینیڈین قانون ہر شہری کو پرامن سیاسی اظہار کی مکمل آزادی دیتا ہے۔
نجر سے پنوں تک، بھارتی کارروائیوں کا تسلسل
بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں دراڑیں اس وقت گہری ہوئیں جب 2023 میں کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے سنگین الزامات عائد کیے۔
اگرچہ بھارت نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کینیڈا پر انتہا پسندوں کو پناہ دینے کا جوابی الزام لگایا، تاہم کینیڈین حکام اپنی تحقیقات پر قائم رہے۔
رواں سال 2026 میں بھی رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی حکومت سے جڑی مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات پورے زور و شور سے جاری ہیں۔
یہ معاملہ محض کینیڈا تک محدود نہیں، بلکہ امریکا میں بھی سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش میں بھارتی انٹیلی جنس کا نام سامنے آ چکا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے اس معاملے پر سخت عدالتی کارروائی نے بھارتی ریاستی دہشت گردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے اور یہ واشنگٹن کے لیے بھی ایک حساس معاملہ بن چکا ہے۔
سفارتی تعلقات پر منڈلاتے بادل
یہ چشم کشا رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند وسط اکتوبر میں بھارت کا دورہ کرنے والی ہیں۔ اگرچہ 3 اکتوبر تک اس دورے کا باضابطہ اعلان نہیں ہوا، تاہم اطلاعات کے مطابق وہ بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ملاقات کریں گی۔
وزیر خارجہ بننے کے بعد انیتا آنند کا یہ تیسرا دورہ بھارت ہوگا۔ وہ اس سے قبل اکتوبر 2025 اور مارچ 2026 میں بھی نئی دہلی کا دورہ کر چکی ہیں۔
اس دورے میں دوطرفہ تجارت اور روڈ میپ پر بات چیت طے تھی، لیکن اب سیکیورٹی خدشات اس ایجنڈے پر حاوی ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مستقبل کا منظر نامہ
امریکا اور کینیڈا کی جانب سے تسلسل کے ساتھ سامنے آنے والے ٹھوس شواہد اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ نئی دہلی کی خارجہ پالیسی میں جارحانہ خفیہ آپریشنز اور ٹارگٹ کلنگ کو مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے۔ یہ صورتحال مغربی ممالک کے لیے ایک پیچیدہ سفارتی امتحان بن گئی ہے۔
ایک طرف مغربی طاقتیں چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کا راستہ روکنے کے لیے بھارت کو خطے میں ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر پروان چڑھانا چاہتی ہیں، تو دوسری جانب بھارت کی جانب سے ان کی اپنی خودمختار سرزمین پر قانون کی یہ کھلی خلاف ورزیاں ان کی داخلی سلامتی اور جمہوری اقدار کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں۔
اگر نئی دہلی نے اپنے اس طرزِ عمل پر نظرِ ثانی نہ کی، تو آنے والے برسوں میں اسے مغربی ممالک کے ساتھ اپنے معاشی اور دفاعی تعلقات میں شدید سرد مہری اور ممکنہ طور پر عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔