ایران امریکا کشیدگی کے دوران ایک دن کی کمی کے بعد تیل کی منڈی نے دوبارہ اوپر کا رخ کر لیا ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برینٹ کروڈ آئل 0.42 فیصد مہنگا ہو کر 104.7 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
برینٹ کے ساتھ دیگر اقسام میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی خام تیل کی قیمت 0.39 فیصد بڑھ کر 91.85 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ اماراتی مربن خام تیل میں 0.12 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی ٹریڈنگ 110 ڈالر فی بیرل پر جاری رہی۔
گزشتہ روز عالمی منڈی میں تیل سستا ہوا تھا۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت کا اشارہ دیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوری فوجی کارروائی نہیں کی جائے گی جس کے بعد عالمی سطح پر خدشات کم ہوئے اور نتیجتاً برینٹ کروڈ 1.23 فیصد گر کر 103 ڈالر فی بیرل پر آ گیا تھا۔
تیل مہنگا ہو تو پیٹرول، ڈیزل اور ٹرانسپورٹ کے کرائے متاثر ہوتے ہیں, پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہیں ، اگر قیمتیں بلند رہیں تو مہنگائی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کا آئندہ رخ ایران امریکا مذاکرات، آبنائے ہرمز سے ترسیل کی صورتِ حال اور خطے میں فوجی کشیدگی پر منحصر ہو گا۔