اسٹار فٹبالر رونالڈو مشکل میں، پرتگال فٹبال فیڈریشن نے بڑا قدم اٹھا لیا

اسٹار فٹبالر رونالڈو مشکل میں، پرتگال فٹبال فیڈریشن نے بڑا قدم اٹھا لیا

پرتگال کے سپر سٹار کرسٹیانو رونالڈو کیلئے قومی ٹیم کا کیمپ چھوڑنا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ 

میڈیا رپورٹ کے مطابق کوچ جارج جیسز سے اختلاف کے بعد ناراض ہو کر کیمپ سے جانے پر پرتگالی فٹبال فیڈریشن نے ضوابط کے تحت ان کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے ، اب کرسٹیانو رونالڈو کے سر  پر پابندی کا خدشہ منڈلا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق تنازع کھیلنے کے وقت پر شروع ہوا جہاں رونالڈو چاہتے تھے کہ انہیں زیادہ وقت ملے، مگر کوچ کے ساتھ اس معاملے پر اتفاق نہ ہو سکا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ کیمپ چھوڑ گئے۔

کتنی پابندی ممکن ہے؟

پابندی کی مدت ایک سے چھ ماہ کے درمیان ہو سکتی ہے تاہم حتمی فیصلہ ڈسپلنری کونسل کرے گی ، اگر سزا ایک ماہ سے زیادہ ہوئی تو رونالڈو اگلے ماہ نیشنز لیگ میں ڈنمارک اور ویلز کے خلاف میچز سے باہر ہو سکتے ہیں۔

تاہم ای ایس پی این کی رپورٹ کے مطابق مختصر پابندی کا امکان زیادہ ہے۔ یعنی شائقین کے لیے مکمل طور پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں :رونالڈو پرتگال واپس آئیں گے یا نہیں؟ کوچ نے فیصلہ انہی پر چھوڑ دیا

رونالڈو نے خود بھی معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی ہے اور  انہوں نے ساتھی کھلاڑیوں اور پرتگالی عوام سے معذرت کی اور کھلے دل سے مانا کہ کیمپ چھوڑنا ان کی غلطی تھی۔

 ان کا کہنا تھا کہ کوچ کے وعدے سے پیچھے ہٹنے پر انہیں مایوسی ہوئی، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سزا سے بچنا چاہتے ہیں،  ان کے بقول اپنے عمل کے نتائج سامنے آنے چاہییں اور قوانین سب کے لیے برابر ہونے چاہییں۔

دوسری جانب کوچ جارج جیسز نے محتاط ردعمل دیتے بتایا کہ وہ رونالڈو کا بیان پڑھ چکے ہیں اور اب ان کی توجہ ٹیم کے معاملات پر ہے۔

ریکارڈ ساز کیریئر پر سوالیہ نشان

رونالڈو پرتگال کے لیے 234 میچز کھیل چکے ہیں اور ریکارڈ 146 گول ان کے نام ہیں ایسے شاندار ریکارڈ کے بعد ایک تنازع ان کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے، مگر ان کی کھلی معذرت نے صورتحال کو کافی سنبھال لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : 21 سالہ شاندار سفرکا اختتام، میسی کی انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ، الوداعی لمحہ یادگار بنا دیا

اب سب کی نظریں ڈسپلنری کونسل کے فیصلے پر ہیں جہاں  دیکھنا یہ ہے کہ ٹیم کا سب سے بڑا ستارہ نیشنز لیگ کے میچز میں میدان میں اترتا ہے یا اسے باہر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑتا ہے۔

editor

Related Articles