پاکستان میں پہلی بار ٹریفک مینجمنٹ کےلیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اس حوالے سے لاہور کی تین سڑکوں پر ماڈل پراجیکٹ کے لیئے اےآئی سسٹم انسٹال کیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ٹریفک کنڑول کرنے کے لیے پہلی بار مصنوئی زہانت کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے اوراس پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر لاہور کے تین ماڈل روڈز پر اے آئی سسٹم انسٹال کیا جائے گا ،، جس سے ٹریفک کو کنٹرول کرنے کےساتھ ساتھ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر انفورسمنٹ کو بہتر بنایا جائے گا۔ ایس ایس پی ٹریفک پنجاب سید غضنفر علی شاہ نے کہا کہ پولیسینگ میں ٹیکمالوجی کا استعمال روز برعز بڑھ رہا ہے اور ہم جدید ترین ٹیکنالوجی کو عوامی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، انہوں نےکہا کہ سگنلز پر کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے میکنزیم بنایا گیا ہے اور سگنل خلاف ورزی کو آرٹیفیشل انٹیلجنس کی مدد سے کنٹرول کیا جائیگا اور جو لوگ خلاف ورزی کرتے ہیں انکا ڈیٹا اکھٹا کیا جائیگا۔اور ان لوگوں کا چالان کیا جائیگا اس کیساتھ ساتھ مصنوئی ذہانت کی مدد سے ٹریفک کے مسلسل بہاو کو یقینی بنایا جائیگا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے اہم ادارے کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کر لیا، ہزاروں افراد بے روزگار ہونگے
انہوں نے کہا کہ جس سائیڈ پر ٹریفک کا بہاو زیادہ ہوگا اس سائیڈ کو ٹریفک کے بہاو کے لیے زیادہ ٹائم ملے گا اور جس سائیڈ پر ٹریفک کا بہاو کم ہے اس سائیڈ اور اس روڈ پر سگنل کو کم ٹائم ملے گا۔ایس ایس پی ٹریفک نے کہا کہ اس سسٹم کی بدولت ہمیں ٹریفک کے حوالے سے ڈیٹا حاصل ہو گا کہ کس روڈ پر کس قسم کی ٹریفک زیادہ ہے تاکہ اس کے مطابق وہاں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے حوالےسے میکنزیم بنایا جائے۔ انہوں نےمزید کہا کہ ٹریفک سگنل خلاف ورزی اور لین خلاف ورزی کو کیمروں کی مدد سے مسلسل مانیٹر کیا جائیگا اور فوری ایکش لیا جا سکے گا۔ایس ایس ٹریفک نے مزید کہا کہ پنجاب پولیس کے اس پراجیکٹ میں پارٹنر سیف سٹی اتھارٹی ہے اور انکے کیمروں کی مدد سے اس پراجیکٹ پر یقینی بنایا جا رہا ہے۔

