خیبر پختونخوا میں گزشتہ 10 سال سے جاری تعلیمی ایمرجنسی اور 60ہزار اساتذہ کی میرٹ پر بھرتیاں اور ایک ہزار ارب روپے اخراجات بھی سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر نہیں بنا سکے ہے۔
تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں 10 سال کے دوران تعلیمی ایمرجنسی، میرٹ پر 60 ہزار اساتذہ بھرتیوں کا کریڈٹ لینے اور ہزاروں ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بہتر نہیں ہوسکا ہے۔حالیہ میٹرک کے مایوس کن نتائج نے صوبے کی تعلیمی نظام پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔پشاور بورڈ کے زیر اہتمام نہم و دہم کے نتائج کا اعلان ہواہے جس میں سرکاری سکولوں میں انکشاف ہوا ہے کہ تمام تر اقدامات کے باوجود بھی جماعت دہم کے طلبہ کے نتائج مایوس کن ہے۔ پشاور بورڈ کے سالانہ امتحان میں بعض طلباء ایک تو بعض طلبا دو پرچوں میں ناکام رہے ہیں۔ ایک درجن کے قریب سرکاری سکول تو ایسے بھی ہے جہاں پر کلاس کے تمام طلبہ ایک اور دو دو پرچوں میں فیل ہوئے ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن کے سنگین الزامات پر خیبر پختونخوا حکومت دو دھڑوں میں تقسیم
دستاویز کے مطابق پشاور بورڈ کے 76 سکولوں کے 39 فیصد طلبہ جماعت دہم میں فیل ہوئے ہیں ۔ دہم جماعت میں صرف 76 سکولوں کے 3 ہزار 704 طلبہ میں 22 سو 34 طلبہ پاس ہوئے ہیں ۔ پاس ہونے والوں میں بھی 821 طلبہ نے بی ، 717 طلبہ نے سی اور 43 طلبہ نے ڈی گریڈ حاصل کیا ہے۔ پشاور بورڈ نتائج کے مطابق کامیاب ہونے طلبہ میں 68 فیصد طلبہ نے بی اور سی گریڈ حاصل کیا۔ اسی طرح بورڈ کے 76 سکولوں کے 37 سو 4 طلبہ میں صرف 101 طلبہ ایسے ہے جو اے پلس گریڈ لینے میں کامیاب ہوئے ہے۔ دستاویزات کے مطابق 10 سکول تو ایسے بھی ہے جہاں کوئی طالب علم پاس ہی نہ ہوسکا ہے اور تمام طلبہ ایک یا دو پرچوں میں فیل ہوئے ہیں ۔ ان 10 سکولوں میں 241 طلبہ نے دہم کا امتحان دیا تھا جس میں تمام طلبائ کسی نے کسی مضمون میں ناکام رہے ہیں ۔دستاویز کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شانی گر چترال میں 27 کے 27 طلبہ کسی نہ کسی مضمون میں فیل ہوئی ییں، گورنمنٹ گرلز مڈل کیسو چترال سکول کے 9 طالبات نے امتحان دیا تھا جو سب ایک یا دو مضامین میں ناکام رہے،گورنمنٹ گرلز مڈل سکول شوٹ خار میں 8 ،گوکیر کے 7 اور گورنمنٹ گرلز مڈل سکول کوشام کی 15 طالبات ناکام رہی،پشاور کے گورنمنٹ شہید ارحم خان شہید ہائی سکول ترناب کے 24 میں سے 24 طلبہ کسی نہ کسی مضمون میں فیل ہوئے۔گورنمنٹ شہید سید آفاق ہائیر سیکنڈری سکول کینٹ نمبر 3 سکول میں 56 میں سے 53 طلبہ فیل ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بچے غیر محفوظ، رواں سال درجنوں بچوں کیساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات رونما ہوگئے
اسی طرح گورنمنٹ شہید اعجاز ہائیر سیکنڈری سکول سفید ڈھیری پشاور کے 50 کے 50 طلبہ کو کسی نہ کسی مضمون میں فیل ہونا پڑا ہے ۔پشاور کا دور دراز علاقہ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول احمد خیل پشاور میں بھی 7 میں سے 6 طلبہ فیل ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ناقص نتائج والے سکولوں کے اساتذہ کے خلاف گزشتہ سال بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا جو تاحال نہ مکمل نہ ہوسکا ہے۔ اس بار خراب سکولوں کے نتائج پر محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں کے نتائج کو دیکھ رہے ہے۔ جہاں نتائج خراب ہوئے ان کے خلاف کارروائی کرینگے۔

