آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کیا، بھارتی نژاد امریکی صحافی

بھارتی نژاد امریکی صحافی سدانند دھومے نے جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ میں بہتری کو سراہتے ہوئے ان کے اقدامات کی تعریف کی ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر معروف صحافی سدانند دھومے نے کہا کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے کامیابی حاصل کی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ صحافی کا کہنا تھا کہ خاص طور پر اس وقت پاکستانی فوج کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے،لیکن واشنگٹن کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

آزاد انگلش کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مستحکم کرتے ہوئے خاص طور پر امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان سیاسی تنہائی کا شکار ہیں۔

 خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے  2021 میں کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ’سرکردہ دہشتگرد‘ کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

امریکی صدر کاآج بدھ کو اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ خوشی ہے کہ افغانستان میں کابل بم دھماکے میں ملوث سرکردہ دہشتگرد پکڑا گیا ہے، اس سرکردہ دہشتگردی کی گرفتاری میں مدد دینے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، گرفتاردہشتگرد کوامریکہ لایا جا رہا ہے جہاں اسے امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ساڑھے 3 سال پہلے داعش نے افغانستان میں 13 امریکیوں کو قتل کیا۔

اس ہائی پروفائل گرفتاری میں پاکستانی فوج کا کردار، جنرل منیر کی عالمی سلامتی میں پاکستان کے کردار کو مستحکم کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے امریکی تعلقات کو مستحکم رکھا ہے، حالانکہ ملک کو معاشی اور سیاسی غیر یقینی کا سامنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا پھر سے میدان میں آ گیا، ملک کو پھر قابل فخر بنائیں گے، جو ملک ہم پر ٹیرف لگائے گا اسے بھرپور جواب دیں گے، بیوروکریٹس نے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کیں تو انہیں فارغ کر دیں گے، امریکا کی شہریت اب وہی حاصل کرسکے گا جو گولڈ کارڈ کی قیمت ادا کرےگا۔

ہم نے ڈیڑھ ماہ میں اتنا کام کیا جتنا دیگر پچھلے 4 سالوں میں نہ کر سکے، میں نے 6 ہفتوں میں 100 ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جو بائیڈن کی حکومت امریکی تاریخ کی بدترین حکومت تھی، جو اپنے دور اقتدار میں انڈوں کی قیمت تک کم نہ کر سکی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی ٹیک کمپنیوں اربوں ڈالر آئی ٹی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہیں، ہم ایسا نظام لا رہے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، افراطِ زر کو شکست دینے کی بھرپور کوششیں کریں گے، گزشتہ چند دنوں میں امریکا میں ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، ہمارا جذبہ اور ارادے پہلے سے کئی زیادہ پختہ اور مضبوط ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کنینڈا اور میکسیکو کو اربوں ڈالر کی سبسڈی دی مگر اب نہیں دیں گے، جو ملک امریکا پر ٹیرف لگائے گا، اس کو بھرپور جواب دیں گے اور اس پر بھی ٹیرف لگائیں گے۔ میکسیکو اور کنینڈا سے آنے والی منشیات سے ہمارے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

امریکی صدر نے افغانستان سے امریکی انخلا کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف ہیں، خوشی کی بات ہے کہ افغانستان میں کابل دھماکے میں ملوث ٹاپ دہشتگرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اسے امریکا لایا جا رہا ہے، اسے امریکی قوانین کا سامنا کرنا پڑے گا، اس ٹاپ دہشتگرد کی گرفتاری پر پاکستان کے شکرگزار ہیں، کالعدم تنظیم داعش نے افغانستان میں 3 سال قبل 13 امریکیوں کا قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکا کرنے والا گرفتار دہشت گرد کو امریکا کے انصاف کی تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اس حملے نے افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کا المناک اختتام کیا، جس میں 13 امریکی فوجی اور تقریباً 170 افغان مارے گئے تھے جو طالبان کے قبضے کے بعد کابل سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں جو کسی بھی صدر کی ایک گھنٹہ اور 49 منٹ کی سب سے طویل تقریر تھی، انکشاف کیا کہ ’آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس ظلم کے ذمہ دار سرفہرست دہشتگرد کو گرفتار کر لیا ہے اور وہ اس وقت امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنے کے لیے امریکا لایا جا رہا ہے۔

مختصر وقفے اور تالیاں بجانے کے بعد انہوں نے اس عفریت کو پکڑنے میں مدد کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور مزید کہا کہ یہ متاثرہ خاندانوں کے لیے بہت بڑا دن ہے۔ یہ ان 13 خاندانوں کے لیے ایک بہت اہم دن ہے، جن کو میں واقعی بہت اچھی طرح جانتا ہوں، جن کے بچوں کو قتل کیا گیا تھا۔

Related Articles