روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ امن ڈیل کی خبروں کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ خبرایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جسے گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران عالمی سطح پر ہونے والی سب سے بڑی کمی قرار دیا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق امریکی ڈبلیو ٹی آئی (WTI) کروڈ آئل کی قیمت میں 2.16 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد اس کی قیمت 57.87 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ اسی طرح برطانوی برینٹ کروڈ آئل بھی 2 فیصد سستا ہو کر 62.37 ڈالر فی بیرل پر آ گیا ہے۔ عالمی منڈی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تیل کی یہ کمی براہ راست یوکرین کی امریکا کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے پر آمادگی اور روس کے ساتھ مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت کا نتیجہ ہے۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی یا محدود سطح پر امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے توانائی کی عالمی منڈی میں مزید استحکام آئے گا، کیونکہ موجودہ جنگ نے خام تیل، گیس، اور دیگر توانائی ذرائع کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہوا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی سے خام مال درآمد کرنے والے ممالک کو ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہونے کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کا امکان ہے، اور ماہرین کے مطابق آئندہ پندرہ روزہ جائزے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی، ڈالر ریٹ اور پٹرولیم لیوی جیسے عوامل بھی اثر انداز ہوں گے، تاہم خام تیل کی موجودہ عالمی قیمتیں حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کا موقع فراہم کرسکتی ہیں۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہتی ہیں تو پاکستان میں ٹرانسپورٹ، درآمدات اور مہنگائی کے مجموعی دباؤ میں بھی کمی متوقع ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان قیامِ امن نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی مثبت اثرات لا سکتا ہے۔