دوبارہ جنم کے دعوؤں سے جڑے واقعات میں ٹیٹو سنگھ کی کہانی آج بھی سب سے زیادہ حیران کن کیسز میں شمار ہوتی ہے۔ ایک کم عمر بچے نے مبینہ طور پر خود کو ایک ایسے شخص کا دوبارہ جنم قرار دیا جسے گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا اور اس نے مقتول کے گھر، خاندان اور دکان سے متعلق ایسی تفصیلات بیان کیں جنہوں نے محققین کی توجہ حاصل کی۔
بھارت میں کئی دہائیاں قبل سامنے آنے والا یہ واقعہ آج بھی دوبارہ جنم کے دعوؤں پر ہونے والی بحث کا حصہ ہے۔ تاہم اس کیس میں خاندانی بیانات، محققین کی تحقیق اور بعد میں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔
کم عمری میں شروع ہونے والے دعوے
محقق انٹونیا ملز کی 1989 میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ٹیٹو سنگھ کے خاندان کا کہنا تھا کہ وہ تقریباً 18 ماہ کی عمر سے غیر معمولی باتیں کرنے لگا تھا۔ ٹیٹو مبینہ طور پر اپنے والدین سے کہتا تھا کہ یہ اس کا اصل گھر نہیں اور اس کے حقیقی والدین، بیوی اور بچے آگرہ میں رہتے ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کے دعوے مزید مخصوص ہوتے گئے۔ وہ آگرہ کے صدر بازار میں اپنی ایک دکان کا ذکر کرتا اور بتاتا کہ وہاں ٹرانزسٹر ریڈیو فروخت کیے جاتے تھے۔ اس نے دکان کا نام بھی مبینہ طور پر سریش ریڈیو بتایا۔
خاندان کی جانب سے تلاش کیے جانے پر آگرہ میں اسی نام کی ایک دکان کا سراغ ملا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ اس دکان کے سابق مالک سریش ورما کو 1983 میں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔
مقتول کے خاندان کو پہچاننے کا دعویٰ
ٹیٹو کے اہل خانہ کے مطابق جب اسے سریش ورما کی دکان اور خاندان کے پاس لے جایا گیا تو بچے نے مبینہ طور پر گھر اور خاندان کے افراد کو پہچان لیا۔ اس نے گھر اور دکان کی ساخت سمیت خاندان کے بعض افراد کے نام اور دیگر ذاتی تفصیلات بتانے کا دعویٰ بھی کیا۔ ایک اور بیان کے مطابق ٹیٹو نے سریش ورما کی تصویر دیکھ کر اسے اپنی سابقہ زندگی سے جوڑا۔
ٹیٹو کے خاندان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ بچے کے رویے اور مزاج میں سریش ورما سے کچھ مماثلت پائی جاتی تھی۔ تاہم اس کیس سے متعلق بعض مشہور دعوے بعد میں سوشل میڈیا پر مزید بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے۔ مثال کے طور پر یہ دعویٰ بھی سامنے آتا رہا کہ ٹیٹو نے قاتل کی شناخت کردی تھی، لیکن انٹونیا ملز کی تحقیق کے مطابق بچے نے حملہ آوروں کی شناخت کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی۔
ٹیٹو سنگھ کے کیس میں ایک اور تفصیل نے بھی خاصی توجہ حاصل کی۔ 1988 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹیٹو کے سر پر ایک پیدائشی نشان موجود تھا اور مبینہ طور پر اس کی جگہ وہی تھی جہاں سریش ورما کو گولی لگی تھی۔ دوبارہ جنم پر یقین رکھنے والوں نے اسے اہم علامت قرار دیا، تاہم ایسے پیدائشی نشانات کو کسی شخص کے دوبارہ جنم کا سائنسی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔
معلومات بچے تک کیسے پہنچیں؟
اس کیس کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ ٹیٹو کو سریش ورما کی زندگی سے متعلق معلومات کیسے معلوم ہوئیں۔ محقق انٹونیا ملز کی تحقیق میں ایک ممکنہ وضاحت بھی سامنے آتی ہے۔ ٹیٹو کا خاندان آگرہ میں مقیم نہیں تھا، تاہم اس کے والد روزانہ آگرہ آتے جاتے تھے اور مقامی اخبارات بھی پڑھتے تھے۔
تحقیق کے مطابق سریش ورما کے قتل کی خبر ایک اخبار میں مسلسل 3 دن تک شائع ہوئی تھی۔ اگرچہ اس خبر میں وہ تمام تفصیلات موجود نہیں تھیں جو بعد میں ٹیٹو سے منسوب کی گئیں، تاہم محقق نے یہ امکان مسترد نہیں کیا کہ بچے نے اپنے والد یا کسی اور ذریعے سے سریش ورما کے بارے میں کچھ معلومات سنی ہوں۔
پیدائش کی تاریخ نے کیس کو مزید پیچیدہ کردیا
ٹیٹو کی پیدائش کی تاریخ بھی اس کیس میں ایک اہم سوال بن گئی۔ اس کے والد نے محقق کو بتایا تھا کہ ٹیٹو 10 دسمبر 1983 کو پیدا ہوا، یعنی سریش ورما کے قتل کے بعد۔ تاہم ملز کو ایک ہسپتال ریکارڈ ایسا بھی ملا جس میں ٹیٹو کی پیدائش کی تاریخ 11 دسمبر 1982 درج تھی۔ اگر یہ ریکارڈ درست ہو تو ٹیٹو سریش ورما کے قتل سے کئی ماہ پہلے پیدا ہوا تھا۔
تاہم محقق نے خود بھی اس امکان کا ذکر کیا کہ یہ ریکارڈ کسی دوسرے بچے کا ہوسکتا ہے، اس لیے پیدائش کی تاریخ کے معاملے کو قطعی طور پر حل شدہ نہیں سمجھا گیا۔
ٹیٹو سنگھ کا کیس دوبارہ جنم کے دعوؤں سے متعلق ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ ضرور ہے، لیکن دستیاب تحقیق اس بات کو قطعی طور پر ثابت نہیں کرتی کہ ٹیٹو سریش ورما کا دوبارہ جنم تھا۔ اس کیس میں کچھ معلومات خاندان کے بیانات پر مبنی ہیں، جبکہ بعض تفصیلات بعد کی روایات اور سوشل میڈیا میں مزید نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔
اسی لیے ٹیٹو سنگھ کی کہانی آج بھی ایک سوال چھوڑ جاتی ہے، کیا ایک کم عمر بچے کو واقعی کسی مقتول شخص کی زندگی سے متعلق غیر معمولی معلومات یاد تھیں، یا اس نے یہ معلومات کسی عام ذریعے سے حاصل کی تھیں؟
شاید سوال اس واقعے کو آج تک دوبارہ جنم کے سب سے پراسرار دعوؤں میں شامل رکھتا ہے۔