کراچی کے علاقے گلشن حدید میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد

کراچی کے علاقے گلشن حدید میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد

کراچی کے علاقے گلشن حدید میں نجی سوسائٹی کے ایک گھر سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس پر آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔

کراچی کے علاقے گلشن حدید کی ایک نجی سوسائٹی میں واقع گھر سے پراسرار حالت میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں ملنے سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق برآمد ہونے والی لاشوں میں میاں، بیوی، ان کی 2 معصوم بچیاں اور ایک جوان سال خاتون شامل ہیں۔

ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ لاشوں کی شناخت 40 سالہ شاہ زیب، ان کی 40 سالہ اہلیہ صبا، 5 سالہ بیٹی ایزل اور 4 سالہ بیٹی آریہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔

گھر سے ملنے والی پانچویں لاش 18 سالہ شمائلہ کی ہے جو شاہ زیب کی بہن تھی۔ ریسکیو اور پولیس حکام کی جانب سے تمام لاشوں کو فوری طور پر ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی موت کی اصل وجوہات معلوم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

آئی جی سندھ کا نوٹس اور شفاف تحقیقات کے احکامات

گلشن حدید میں پیش آنے والے اس دردناک واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

آئی جی سندھ نے اعلیٰ حکام کو سخت ہدایت کی ہے کہ واقعے کی تمام تر پہلوؤں سے مکمل شفاف، بے لاگ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے تاکہ 5 افراد کی اچانک ہلاکتوں کی حقیقی وجوہات سامنے آ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی کے احسن آباد میں ڈاکٹر عمر، اہلیہ اور 3 بیٹیوں کی لاشیں فلیٹ سے برآمد، تحقیقات جاری

جاوید عالم اوڈھو نے زور دے کر کہا کہ جائے وقوعہ سے سائنسی اور جدید سیکیورٹی اصولوں کے تحت تمام تر فرانزک شواہد اکٹھے کیے جائیں اور تمام قانونی تقاضے بلا تاخیر پورے کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس واقعہ میں کوئی مجرمانہ پہلو یا عناصر ملوث ہیں تو انہیں سامنے لانے کے لیے فوری اور بلا معطلی اقدامات کیے جائیں۔

آئی جی سندھ نے مزید ہدایت کی کہ تحقیقات میں ہونے والی تمام تر پیشرفت سے ان کے دفتر کو مسلسل باخبر رکھا جائے اور تمام کارروائی کو تمام تر حقائق کی روشنی میں انجام دیا جائے۔

کراچی کے رہائشی علاقوں بالخصوص نجی سوسائٹیوں میں پراسرار ہلاکتوں اور خاندانی تنازعات یا اچانک زہریلی اشیا کے اثرات سے اموات کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

ایسے واقعات کے پسِ پردہ متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں، جن میں زہریلی گیس کا اخراج، خوراک میں زہر کا ہونا، گھریلو ناچاقی، یا پھر جرائم پیشہ عناصر کی کارروائیاں شامل ہوتی ہیں۔

اس قسم کے المناک واقعات اکثر پولیس اور سائنسی فرانزک ٹیموں کے لیے چیلنج کا باعث بنتے ہیں، جس کے بعد جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینا انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔

ایک ہی گھر کے اندر سے ایک پورے خاندان کا اس طرح پراسرار طور پر ہلاک پایا جانا گہری تشویش اور کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ 5 افراد جن میں 2 معصوم اور کمسن بچیاں بھی شامل ہیں، کی اچانک موت کے واقعے کو پولیس انتظامیہ صرف محض حادثہ قرار نہیں دے سکتی۔

مزید پڑھیں:لاشیں اٹھائیں گے اور نئے لوگ آئیں گے، ہم اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے،جنید اکبر کی دھمکی

اس مرحلے پر پولیس کو روایتی تفتیش سے ہٹ کر جدید فرانزک ٹیکنالوجی، زہر شناسی (ٹاکسیکولوجی) کی رپورٹوں اور سوسائٹی کے نفاذِ امن کے تمام وسائل بشمول سی سی ٹی وی کیمروں کا تفصیلی جائزہ لینا ہوگا۔

جب تک پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور فرانزک شواہد سامنے نہیں آتے، تب تک واقعے کی حقیقی نوعیت کا تعین ممکن نہیں، لیکن سائنسی شواہد کا درست جمع کیا جانا ہی اس گھناؤنے یا دردناک واقعے کی اصل حقیقت تک پہنچنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

Related Articles