خیبرپختونخوا میں مختلف ٹریبونلز کے چیئرمینوں کی تنخواہوں میں تفاوت پایا جاتا ہے، کوئی چیئرمین 10 لاکھ روپے ماہانہ حاصل کر رہا ہے تو کوئی 33 لاکھ روپے، ماحولیات کے تحفظ ٹریبونل کے چیئرمین کی تنخواہ 2 لاکھ 31 ہزار روپے مقرر تھی، جسے بڑھا کر 10 لاکھ اور دو ممبران کی اٹھ اٹھ لاکھ روپے کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق، ملک ہارون اقبال ایڈوکیٹ کو انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کا چیئرمین 3 اکتوبر 2024 کو مقرر کیا گیا اور وہ گریڈ 21 کے مطابق تنخواہ لینے کے اہل ہیں، جو اس وقت 2 لاکھ 31 ہزار 463 روپے ہے۔
انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل کے رجسٹرار نے محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کو تنخواہوں میں تفاوت کے سلسلے میں آگاہ کیا کہ دیگر ٹریبونلز کے چیئرمینوں کی تنخواہیں بہت زیادہ ہیں۔ اس سلسلے میں ثبوت فراہم کیے گئے کہ چیئرمین سروس ٹریبونل کی ماہانہ تنخواہ 33 لاکھ 46 ہزار 302 روپے ہے، جو سالانہ 4 کروڑ 1 لاکھ 55 ہزار 624 روپے بنتی ہے۔ اسی طرح، چیئرمین میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشن اپیلٹ ٹریبونل کی ماہانہ تنخواہ 15 لاکھ 67 ہزار 991 روپے ہے جبکہ چیئرمین فاٹا ٹریبونل کی ماہانہ تنخواہ 10 لاکھ روپے ہے۔
اسی بنیاد پر، چیئرمین انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل سمیت ممبر ٹیکنیکل اور لیگل کی تنخواہوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے خیبرپختونخوا انوائرمنٹل پروٹیکشن ٹریبونل رولز 2016 میں ترامیم تجویز کی گئیں، جنہیں صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔ اس کے بعد چیئرمین ای پی ٹی کی تنخواہ 10 لاکھ روپے اور ممبر ٹیکنیکل و لیگل کی تنخواہ 8 اٹھ لاکھ روپے ماہانہ ہوگی۔
واضح رہے کہ صوبائی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، 31 دسمبر 2024 تک حکومت 709 ارب 61 کروڑ روپے کی مقروض ہے، جبکہ سینکڑوں ارب روپے کے علیحدہ معاہدے بھی ہوئے ہیں جو آنے والے سالوں میں وصول ہوں گے۔